مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ طَرِيقُهُ عَلَيْنَا يَأْتِي عَلَى الْحَيِّ فَيُحَدِّثُهُمْ قَالَ : أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي عِيرٍ لَنَا فَبِعْنَا بِضَاعَتَنَا ثُمَّ قُلْتُ : لَأَنْطَلِقَنَّ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَلَآتِيَنَّ مَنْ بَعْدِي بِخَبَرِهِ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ يُرِينِي بَيْتًا قَالَ : " إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ فِيهِ فَخَرَجَتْ فِي سَرِيَّةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَتَرَكَتْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ عَنْزَةً وَصِيصَتَهَا الَّتِي تَنْسِجُ بِهَا " . قَالَ : " فَفَقَدَتْ عَنْزًا مِنْ غَنَمِهَا وَصِيصَتَهَا قَالَتْ : يَا رَبِّ إِنَّكَ قَدْ ضَمِنْتَ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِكَ أَنْ تَحْفَظَ عَلَيْهِ وَإِنِّي قَدْ فَقَدْتُ عَنْزًا مِنْ غَنَمِي وَصِيصَتِي وَإِنِّي أَنْشُدُكَ عَنْزِي وَصِيصَتِي" . قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ لَهُ شِدَّةَ مُنَاشَدَتِهَا لِرَبِّهَا - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَصْبَحَتْ عَنْزُهَا وَمِثْلُهَا وَصِيصَتُهَا وَمِثْلُهَا وَهَاتِيكَ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا إِنْ شِئْتَ " . قَالَ : قُلْتُ : بَلْ أُصَدِّقُكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : طفادہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا راستہ ہمارے پاس سے گزرتا تھا وہ قبیلے میں تشریف لا کر ان لوگوں کو حدیث بیان کیا کرتے تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ایک قافلے کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ہم لوگوں نے اپنا سامان فروخت کر دیا پھر میں نے سوچا کہ مجھے ان صاحب کے پاس جانا چاہیے میں ان کے پاس جا کر ان کے حالات معلوم کرتا ہوں وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک گھر دکھایا اور فرمایا : اس گھر میں ایک عورت ہوتی تھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ایک جنگی مہم کے لئے نکلی اس نے اپنے پیچھے بارہ بکریاں چھوڑیں اور اپنا کپڑا بننے کا آلہ چھوڑا ، جس کے ذریعے وہ بنتی تھی ، ( جب وہ واپس آئی ) تو اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو غیر موجود پایا ، اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کو غیر موجود پایا ، تو عرض کی : اے میرے پروردگار ! جو تیری راہ میں نکلتا ہے ، تو نے اسے یہ ضمانت دی ہے کہ تو اس کی حفاظت کرتا ہے ، تو میں نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کو غیر موجود پایا ہے ، تو میں اپنی بکری اور اپنے کپڑا بننے کے آلے کے بارے میں تجھے واسطہ دیتی ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کی شدت کا ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اس کے پاس ایک بکری اور اس کی مانند ایک مزید بکری بھی اور ایک کپڑا بننے کا آلہ اور اس کی مانند ایک مزید آلہ بھی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس عورت کے پاس جا کر اُس سے اس بارے میں دریافت کر سکتے ہو ، اگر تم چاہو ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے عرض کی : بلکہ میں آپ کی بات کی تصدیق کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔