مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ باب: جہاد کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا خَرَجَ الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ جُعِلَتْ ذُنُوبُهُ جِسْرًا عَلَى بَابِ بَيْتِهِ فَإِذَا خَلَّفَهُ خَلَّفَ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا فَلَمْ يَبْقَ عَلَيْهِ مِنْهَا مِثْلُ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ ، وَتَكَفَّلَ اللَّهُ لَهُ بِأَرْبَعٍ ؛ بِأَنْ يَخْلُفَهُ فِيمَا يُخْلِفُ مِنْ أَهْلٍ وَمَالٍ، وَأَيُّ مِيتَةٍ مَاتَ بِهَا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ، وَأَيُّ رِدَّةٍ رَدَّهُ رَدَّهُ سَالِمًا بِمَا نَالَهُ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَلَا تَغْرُبُ شَمْسٌ إِلَّا غَرَبَتْ بِذُنُوبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ کی راہ میں غازی نکلتا ہے ، تو اس کے گناہوں کو اس کے گھر کے دروازے پر رکھ دیا جاتا ہے جب وہ دروازہ چھوڑ کر آگے جاتا ہے ، تو وہ اپنے تمام گناہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے اور ان گناہوں میں سے مکھی کے پر جتنا کوئی گناہ بھی باقی نہیں رہتا اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے چار چیزوں کا کفیل بن جاتا ہے ایک یہ کہ وہ اپنے اہل خانہ اور مال میں سے جو کچھ چھوڑ کے جا رہا ہے اللہ تعالیٰ اس کی نگہبانی کرے گا ، اور وہ شخص جس حالت میں بھی مرا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اور وہ شخص جس بھی حالت میں واپس آیا ، تو اللہ تعالیٰ اسے سلامتی کے ساتھ واپس لائے گا ، اور اسے اجر بھی حاصل ہو گا ، اور غنیمت بھی حاصل ہو گی ، اور جب سورج غروب ہوتا ، تو اس کے گناہوں سمیت غروب ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔