حدیث نمبر: 9423
وَعَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا هَلَكَ ، فَصَلِّ عَلَيْهِ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّهُ فَاجِرٌ فَلَا تُصَلِّ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ اللَّيْلَةَ الَّتِي صَبَّحْتَ فِيهَا فِي الْحَرَسِ فَإِنَّهُ كَانَ فِيهِمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ تَبِعَهُ حَتَّى جَاءَ قَبْرَهُ فَقَعَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُ حَثَا عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ ثُمَّ قَالَ : "تُثْنِي عَلَيْكَ النَّاسُ سُوءًا وَأُثْنِي عَلَيْكَ خَيْرًا" . فَقَالَ عُمَرُ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْنَا مِنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ ثَعْلَبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ فاجر شخص تھا آپ اس کی نماز جنازہ ادا نہ کریں اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس شخص کو ، اس رات کو ملاحظہ نہیں فرمایا تھا ، جس میں آپ نے حفاظت کرتے ہوئے صبح کی تھی تو حفاظت کرنے والوں میں وہ فرد بھی شامل تھا ( یعنی جب پہرا دینے کی ضرورت پیش آئی تھی تو وہ بھی پہریداروں میں سے ایک تھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی پھر آپ میت کے ساتھ گئے ، یہاں تک کہ اس کی قبر کے پاس تشریف لائے آپ وہاں تشریف فرما ہوئے جب اسے دفن کر دیا گیا تو آپ نے اس پر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے مٹی ڈالی اور پھر ارشاد فرمایا : لوگ تمہارے بارے میں بری تعریف کرتے ہیں میں تمہاری بھلائی کے ساتھ تعریف کرتا ہوں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تم ہمیں رہنے دو ! جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ثعلب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9423
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (337/22)»