حدیث نمبر: 9412
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْإِسْلَامُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ : سُفْلَى وَعُلْيَا وَغُرْفَةٌ ، فَأَمَّا السُّفْلَى فَالْإِسْلَامُ دَخَلَ فِيهِ عَامَّةُ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يُسْأَلُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا قَالَ : أَنَا مُسْلِمٌ . وَأَمَّا الْعُلْيَا فَتَفَاضُلُ أَعْمَالِهِمْ ، بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ . وَأَمَّا الْغُرْفَةُ الْعُلْيَا فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا أَفْضَلُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْقَاسِمِ وَأَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اسلام کے تین درجہ ہیں زیریں ، بالائی اور بالاخانہ جہاں تک زیریں علاقے کا تعلق ہے ، تو وہ اسلام ہے ، جس میں عام مسلمان داخل ہوتے ہیں ان میں سے جس کسی سے بھی سوال کیا جائے گا ، تو وہ کہے گا میں مسلمان ہوں جہاں تک بالائی درجہ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد ان کے اعمال میں تفاضل ہے بعض مسلمان دوسروں سے فضیلت رکھتے ہیں جہاں تک بالائی بالا خانے کا تعلق ہے ، تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے اس مقام تک صرف ان میں سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ پہنچتے ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابوعبدالملک کی قاسم کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ابوعبدالملک سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9412
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (318/18)»