حدیث نمبر: 9411
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ بِالنَّاسِ قَبْلَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ صَلَّى بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَكِبُوا، فَلَمَّا أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ نَعَسَ النَّاسُ عَلَى أَثَرِ الدُّلْجَةِ ، وَلَزِمَ مُعَاذٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْلُو أَثَرَهُ ، وَالنَّاسُ تَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ تَأْكُلُ وَتَسِيرُ ، فَبَيْنَا مُعَاذٌ عَلَى أَثَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَاقَتُهُ تَأْكُلُ مَرَّةً وَتَسِيرُ أُخْرَى عَثَرَتْ نَاقَةُ بِلَالٍ ، فَكَبَحَهَا بِالزِّمَامِ فَهَبَّتْ حَتَّى تَقْرُبَ مِنْهَا نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَشَفَ عَنْهُ قِنَاعَهُ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْجَيْشِ أَدْنَى إِلَيْهِ مِنْ مُعَاذٍ فَنَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : "يَا مُعَاذُ " . فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " ادْنُ دُونَكَ " فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى لَصِقَتْ رَاحِلَتَاهُمَا إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "مَا كُنْتُ أَحْسَبُ النَّاسَ مِنَّا كَمَكَانِهِمْ مِنَ الْبُعْدِ" . فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعَسَ النَّاسُ فَتَفَرَّقَتْ بِهِمْ رِكَابُهُمْ تَرْتَعُ وَتَسِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا كُنْتُ نَاعِسًا" . فَلَمَّا رَأَى مُعَاذٌ بِشْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَلْوَتَهُ لَهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَسْأَلْكَ عَنْ كَلِمَةٍ أَمْرَضَتْنِي وَأَسْقَمَتْنِي وَأَحْزَنَتْنِي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلْ عَمَّا شِئْتَ" . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ لَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ غَيْرِهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "بَخٍ بَخٍ بَخٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ لَقَدْ سَأَلْتَ لِعَظِيمٍ - ثَلَاثًا - وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ أَرَادَ اللَّهُ بِهِ الْخَيْرَ " فَلَمْ يُحَدِّثْهُ بِشَيْءٍ إِلَّا أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حِرْصًا لِكَيْمَا يُتْقِنَهُ عَنْهُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا حَتَّى تَمُوتَ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدْ لِي فَأَعَادَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ شِئْتَ يَا مُعَاذُ حَدَّثْتُكَ بِرَأْسِ هَذَا الْأَمْرِ وَقِوَامِ هَذَا الْأَمْرِ وَذِرْوَةِ السَّنَامِ" . فَقَالَ مُعَاذٌ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ رَأْسَ هَذَا الْأَمْرِ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِنَّ قِوَامَ هَذَا الْأَمْرِ إِقَامَةُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَإِنَّ ذُرْوَةَ السَّنَامِ مِنْهُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَيَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدِ اعْتَصَمُوا وَعَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شَحُبَ وَجْهٌ وَلَا اغْبَرَّتْ قَدَمٌ فِي عَمَلٍ تَبْتَغِي فِيهِ دَرَجَاتُ الْجَنَّةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَفْرُوضَةِ كَجِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا ثَقَّلَ مِيزَانَ عَبْدٍ كَدَابَّةٍ تُنْفَقُ لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ يَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے صبح کے وقت آپ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی لوگ روانہ ہوئے جب سورج طلوع ہونے والا تھا ، تو رات کے جاگنے کی وجہ سے لوگ اونگھنے لگے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے پیچھے چلنے لگ گئے ۔ لوگوں کی سواریاں عام راستے سے ہٹ کر ادھر اُدھر بکھر گئیں وہ سواریاں کھا بھی رہی تھیں اور چل بھی رہی تھیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ان کی اونٹنی کبھی کھا لیتی تھی کبھی چل پڑتی تھی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی ، انہوں نے اسے لگام کے ذریعے کھینچا تو وہ تیز ہوئی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے قریب پہنچ گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا ہٹا کے دیکھا تو لشکر کا کوئی بھی فرد آپ کے پاس موجود نہیں تھا صرف سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکار کر فرمایا : اے معاذ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور قریب ہو جاؤ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قریب ہو گئے ، یہاں تک کہ ان دونوں کی اونٹنیاں ایک دوسرے کے پاس ہو گئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا یہ خیال نہیں تھا کہ لوگ مجھ سے اتنی دور ہوں گے جتنے ہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ اونگھنے لگ پڑے تھے ، تو سواریاں ادھر اُدھر بکھر گئیں وہ چل بھی رہی ہیں اور چر بھی رہی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اونگھنے لگ گیا تھا ۔ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کی خوشگواری دیکھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا پایا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کروں جس نے مجھے مریض کر دیا ہے بیمار کر دیا ہے غمگین کر دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جس چیز کے بارے میں چاہو دریافت کر لو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے میں نے اس کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بہت اچھے بہت اچھے بہت اچھے تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : تم نے ایک بڑی چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے : یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر فرمایا ) یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے یہ اس شخص کے لئے آسان ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات کو تین مرتبہ دہرا رہے تھے یہ خواہش رکھتے ہوئے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اسے اہتمام کے ساتھ محفوظ کریں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھو تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ یہاں تک کہ جب تم مرو تو اسی عالم ، میں ہو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اسی بات کو دہرا دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس بات کو دہرایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے معاذ اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس معاملے کے سرے اور اس معاملے کی مضبوط چیز اور اس کی کوہان کی چوٹی کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! آپ مجھے بتائیے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس معاملے کا سرا یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اس معاملے کی چوٹی ( یعنی اہم ترین چیز ) نماز قائم کرنا زکوۃ ادا کرنا ہے اور اس کی کوہان کی چوٹی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے تو وہ مضبوطی سے تھام لیں گے اور وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، کسی بھی چہرے کی رنگت تبدیل نہیں ہوتی اور کوئی بھی قدم کسی عمل کے حوالے سے غبار آلود نہیں ہوتا ، جس کے ذریعے تم جنت کے درجات تلاش کرنا چاہو ، تو فرض نماز کے بعد کوئی ایسا عمل نہیں ہے ، جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی مانند ہو اور کوئی بھی عمل بندے کے میزان کو اس طرح وزنی نہیں کرتا جو اس جانور کی مانند ہو ، جس پر تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو ، یا جسے تم اللہ کی راہ میں سواری کے لئے دے دو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1654 و 1653) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (63/20) اخرجه أحمد فى المسند (245/5)»