حدیث نمبر: 9391
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهْوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثًا : انْتِضَالَكَ بِقَوْسِكَ، وَتَأْدِيبَكَ فَرَسَكَ ، وَمُلَاعَبَتَكَ أَهْلَكَ ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ " . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْتَضِلُوا وَارْكَبُوا ، وَأَنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ ؛ صَانِعَهُ الْمُحْتَسِبَ فِيهِ ، وَالْمُمِدَّ بِهِ ، وَالرَّامِيَ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ أَحْمَدُ : مَتْرُوكٌ . وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دنیا کے لہو سے تعلق رکھنے والی ہر چیز باطل ہے البتہ تین چیزوں کا معاملہ مختلف ہے تمہارا اپنی کمان کے ذریعے تیراندازی کرنا تمہارا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور تمہارا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا ، کیونکہ یہ حق میں سے ہیں“ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تیراندازی کرو ! گھڑ سواری کرو ، اور تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا اسے بنانے والا جو اسے بنانے میں ثواب کی امید رکھتا ہو اسے پکڑانے والا اور اسے پھینکنے والا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے اور یہ روایت مکمل روایت نفلی صدقہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : یہ متروک ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے دحیم اسے ثقہ کہتے ہیں : اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9391
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً