حدیث نمبر: 9390
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ : رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَجَابِرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ يَرْتَمِيَانِ ، فَمَلَّ أَحَدُهُمَا فَجَلَسَ فَقَالَ لَهُ الْآخَرُ : كَسِلْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّ شَيْءٍ لَيْسَ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَهُوَ لَهْوٌ أَوْ سَهْوٌ ، إِلَّا أَرْبَعَ خِصَالٍ : مَشْيُ الرَّجُلِ بَيْنَ الْغَرَضَيْنِ، وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ ، وَمُلَاعَبَتُهُ أَهْلَهُ ، وَتَعْلِيمُ السِّبَاحَةِ" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ بُخْتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ دونوں تیراندازی کر رہے تھے ان میں سے ایک تھک گیا تو بیٹھ گیا تو دوسرے صاحب نے ان سے کہا: کیا تم تھک گئے ہو ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہر وہ چیز جس کا تعلق اللہ کے ذکر سے نہ ہو ، تو وہ لہو ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ سہو ہے البتہ چار چیزوں کا معاملہ مختلف ہے آدمی کا دو نشانوں کے درمیان چلنا آدمی کا اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا اور تیراکی کی تعلیم “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالوہاب بن بخت کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9390
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1704) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (1785)»