مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِسِيِّ وَالرِّمَاحِ وَالسُّيُوفِ باب: کانوں ، نیزوں اور تلواروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَفَعَهُ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالرَّمْيِ فَإِنَّهُ خَيْرُ - أَوْ مِنْ خَيْرِ - لَهْوِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْكُمْ بِالرَّمْيِ فَإِنَّهُ خَيْرُ لَعِبِكُمْ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا حَاتِمَ بْنَ اللَّيْثِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَكَذَلِكَ رِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر تیراندازی لازم ہے ، کیونکہ یہ تمہارے کھیل میں سب سے بہتر ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن مفہوم یہی ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر تیر اندازی لازم ہے ، کیونکہ یہ تمہارے کھیلوں میں سب سے بہتر ہے “ ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حاتم بن لیث کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ امام طبرانی کے رجال کا معاملہ بھی اس طرح ہے ۔