مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِسِيِّ وَالرِّمَاحِ وَالسُّيُوفِ باب: کانوں ، نیزوں اور تلواروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى خَيْبَرَ فَعَمَّمَهُ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ ثُمَّ أَرْسَلَهَا مِنْ وَرَائِهِ - أَوْ قَالَ : عَلَى كَتِفِهِ الْيُسْرَى - ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْبَعُ الْجَيْشَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ يَحْمِلُ قَوْسًا فَارِسِيًّا فَقَالَ : "أَلْقِهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَنْ يَحْمِلُهَا، عَلَيْكُمْ بِالْقَنَا وَالْقِسِيِّ الْعَرَبِيَّةِ فَإِنَّ بِهَا يُعِزُّ اللَّهُ دِينَكُمْ وَيَفْتَحُ لَكُمُ الْبِلَادَ " . ¤ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ : إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَنَّهَا كَانَتْ إِذْ ذَاكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ صَارَتْ عُدَّةً وَقُوَّةً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ . وَقَالَ النَّسَائِيُّ : ضَعِيفٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِأَبِي عُبَيْدَةَ عِيسَى بْنِ سُلَيْمٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ سَمَاعًا . ¤سیدنا عبدالله بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا تو انہیں سیاہ عمامہ باندھا اور اس کا شملہ پیچھے کی طرف لٹکایا راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : بائیں کندھے پر ڈالا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ نے کمان کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی آپ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے فارسی کمان اٹھائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رکھ دو کیونکہ یہ ملعون ہے اور جو شخص اسے اٹھائے وہ ملعون ہے تم پر قنا اور عربی کمانیں استعمال کرنا لازم ہے ، کیونکہ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہارے دین کو غلبہ عطا کرے گا ، اور تمہارے لئے شہروں کو فتح کر دے گا ۔ یحیی بن حمزہ کہتے ہیں : یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ مخصوص ہے جہاں تک آج کی بات ہے ، تو آج یہ کمانیں اہل اسلام کے ہتھیاروں اور قوت کا حصہ بن چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد بکر بن سہل دمیاطی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مقارب الحدیث ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ میں نے ابوعبیدہ عیسیٰ بن سلیم نامی راوی کے عبداللہ بن بشر سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔