حدیث نمبر: 9379
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ تَعَالَى وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي ، وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصَّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ وَثَّقَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُمَا وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے قیامت سے پہلے تلوار کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے تاکہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور میرا زرق میرے نیزے کے سائے کے نیچے رکھا گیا ہے اور ذلت اور حقارت اس شخص پر مسلط کر دی گئی ہے ، جو میرے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان ہے جسے ابن مدینی ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف