مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُسَابَقَةِ وَالرِّهَانِ وَمَا يَجُوزُ فِيهِ باب: گھڑ دوڑ ، مقابلہ اور اس میں کیا جائز ہے ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ يَوْمٍ بِالْمَدِينَةِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسٍ لَهُ فَانْطَلَقَ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَقْبَلَ وَهِيَ تَعْدُو إِمَّا دَفَعَهَا ، وَإِمَّا اعْتَرَقَتْ بِهِ ، فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ فَطَارَ مِنْهَا طَائِرٌ فَحَادَتْ فَنَدَرَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَرْضٍ غَلِيظَةٍ، فَأَتَيْنَاهُ نَسْعًا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ وَعَرْضُ رُكْبَتَيْهِ وَحَرْقُفَتَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ وَعَرْضُ وَجْهِهِ ، مُنْسَحٌّ بِيضَ مَاءٍ أَصْفَرَ ، فَجَلَسْنَا حَوْلَهُ نَبْكِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک دن مدینہ منورہ میں موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لے آئے پھر آپ تشریف لے گئے ، یہاں تک کہ آپ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے پھر آپ تشریف لائے وہ گھوڑا تیزی سے دوڑتا ہوا آ رہا تھا یا تو آپ اسے تیز چلا رہے تھے یا وہ خود تیز چل رہا تھا اس کا گزر ایک درخت کے پاس سے ہوا اس درخت سے ایک پرندہ اڑا ، تو وہ گھوڑا لڑکھڑا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سخت زمین پر گر گئے ہم تیزی سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ تشریف فرما تھے ، آپ کے دونوں گھٹنوں ، زانوں کی دونوں ہڈیوں کے سروں ، کندھوں اور چہرے پر چوٹ لگی تھی ، اور چہرے سے جلد اتر گئی تھی ، ہم آپ کے گرد بیٹھ کر رونے لگے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔