مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُسَابَقَةِ وَالرِّهَانِ وَمَا يَجُوزُ فِيهِ باب: گھڑ دوڑ ، مقابلہ اور اس میں کیا جائز ہے ؟
حدیث نمبر: 9357
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَمَّرَ الْخَيْلَ وَسَابَقَ بَيْنَهَا فَرَآنِي رَاكِبًا عَلَى بَعِيرٍ فَقَالَ : "يَا جَابِرُ لَا تَزَالُ تُتَعْتِعُهُ" أَيْ : لَا تَزَالُ تَضْرِبُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَشْمُولٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی تربیت گی اور پھر ان کے درمیان مقابلہ کروایا آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا : میں اونٹ پر سوار تھا ، تو آپ نے فرمایا : اے جابر ! تم مسلسل اسے مشقت کا شکار کرتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم مسلسل اسے مارتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مشمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔