مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُسَابَقَةِ وَالرِّهَانِ وَمَا يَجُوزُ فِيهِ باب: گھڑ دوڑ ، مقابلہ اور اس میں کیا جائز ہے ؟
حدیث نمبر: 9354
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَجَعَلَ بَيْنَهَا سَبْقًا وَجَعَلَ فِيهَا مُحَلَّلًا وَقَالَ : لَا سَبْقَ إِلَّا فِي حَافِرٍ أَوْ نَصْلٍ " .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کروایا آپ نے ان کے درمیان انعام مقرر کیا اور ان میں ایک محلل شامل کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” مقابلہ صرف گھڑ دوڑ یا تیراندازی میں ہو سکتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔