حدیث نمبر: 9352
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصِفُّ عَبْدَ اللَّهِ وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا بَنِي الْعَبَّاسِ ثُمَّ يَقُولُ : " مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " قَالَ : فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ، فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ ، فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْتَزِمُهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَلِينٌ ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَرَكَ حَدِيثَهُ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ وَرَوَى لَهُ مُسْلِمٌ مَقُرُونًا وَالْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا کثیر رضی اللہ عنہ کو صف میں کھڑا کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : جو مجھ تک پہلے پہنچ جائے گا ، اسے یہ ، یہ ملے گا راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ لگا کر جاتے تھے اور آپ کی پشت اور آپ کے سینے پر گر جاتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بوسہ دیتے تھے اور اپنے ساتھ چمٹا لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے اس میں ضعف اور کمزوری پائی جاتی ہے ۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں : میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس نے اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہوتا ہم اس کے علاوہ دوسرا راوی میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا امام مسلم نے اس کے حوالے سے ایک مقرون روایت نقل کی ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیق کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد كي المسند (18636)»