مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ أَلْوَانِ الْخَيْلِ وَمَا يُسْتَحَبُّ مِنْهَا وَمَا يُكْرَهُ باب: گھوڑوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان میں سے کون سا پسندیدہ ہے ؟ اور کون سا ناپسندیدہ ہے ؟
حدیث نمبر: 9347
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُثَفَّلَةَ ؛ فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ وَإِنْ تَغْنَمْ تَغُلَّ" . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ بِالْخَيْلِ أَصْحَابَ الْخَيْلِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم ست قسم کے گھوڑوں سے بچ کے رہو ، کیونکہ اگر وہ ( دشمن کا ) سامنا کرے گا ، تو فرار ہو جائے گا ، اور اگر تمہیں غنیمت حاصل ہو گی ، تو تم خیانت کرو گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور شاید یہاں گھوڑے سے مراد گھوڑے والے افراد ہیں ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔