مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ أَلْوَانِ الْخَيْلِ وَمَا يُسْتَحَبُّ مِنْهَا وَمَا يُكْرَهُ باب: گھوڑوں کی مختلف قسموں کا بیان اور ان میں سے کون سا پسندیدہ ہے ؟ اور کون سا ناپسندیدہ ہے ؟
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا وَأَيْمَنُهَا نَاصِيَةُ مَا كَانَ مِنْهَا أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيَدِ الْيُمْنَى" . ¤ قُلْتُ : اقْتَصَرَ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ عَلَى قَوْلِهِ : " يُمْنُ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گھوڑے کی برکت اس کے گہرے سرخ رنگ میں ہے اور اس میں بھی زیادہ مبارک پیشانی والا وہ ہے ، جو چمکدار پیشانی والا ہو ، اور اس کی ٹانگوں میں سفید نشان ہو ، اور اس کا دایاں اگلا پاؤں کھلا ہو ( شاید یہ مراد ہے کہ اس پر سفید نشان نہ ہو ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے روایت کے صرف ان الفاظ کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے : ” گھوڑے کی برکت اُس کے گہرے سرخ رنگ میں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرج بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔