حدیث نمبر: 934
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَعَدُّ بْنُ عَدْنَانَ بْنِ [ أُدِّ بْنِ ] أُدَدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ بَراءِ بْنِ أَعْرَاقِ الثَّرَى " . قَالَتْ : ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَهْلَكَ عَادًا وَثَمُودًا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ " ، فَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَقُولُ : مَعَدٌّ مَعَدٌّ ، وَعَدْنَانُ عَدْنَانُ ، وَأُدَدٌ أُدَدٌ ، وَزَيْدُ بْنُ هُمَيْسَعِ ، وَبَرَاءٌ : تِبْتٌ ، وَأَعْرَاقُ الثَّرَى ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ : عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ مِنْ ذُرِّيَّةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” معد بن عدنان بن ادّ بن اُد بن زید بن براء بن اعراق الثرى ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ، قوم ثمود کو ، اصحاب رس کو اور اُن کے درمیان اور بھی بہت سے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کیا ، جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : معد ، معد اور عدنان ، عدنان اور اُدد ، ادد اور زید بن ہمیسع اور براء ، تبت اور اعراق الثریٰ ، اسماعیل بن ابراہیم ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، جو سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی اولاد میں سے ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 934
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، راوی عبد العزیز بن عمران کے جمہور کے نزدیک ضعیف ہونے کی وجہ سے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 62/2»