مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَيْلِ باب: گھوڑوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَسٌ ، فَوَهَبَهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكَانَ يَسْمَعُ صَهِيلَهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ فَقَدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "مَا فَعَلَ فَرَسُكَ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَصَيْتُهُ . فَقَالَ : " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، نَوَاصِيهَا دِفَاؤُهَا وَأَذْنَابُهَا مَذَابُّهَا" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ رَاشِدُ بْنُ يَحْيَى الْمَارِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا تھا آپ نے وہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو ہبہ کر دیا آپ اس کے ہنہنانے کی آواز سنا کرتے تھے ، پھر آپ نے اس ( آواز ) کو غیر موجود ، پایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا : تمہارے گھوڑے کا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اسے خصی کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت کے دن تک کے لئے بھلائی اور غنیمت ہے ، ان کی پیشانیاں ان کی گرمائش کا ذریعہ ہیں ، اور ان کی دمیں ، اُن کا مکھیاں اُڑانے کا ذریعہ ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی راشد بن یحیی مرینی ہے جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور ( دوسرے راویوں کے ) برخلاف نقل کرتا ہے ۔