مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِ النَّسَبِ . باب: علم نسب کا بیان
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْأَمْرِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ ، مَنْ أَبُونَا ؟ قَالَ : " آدَمُ " . قَالَ : مَنْ أُمُّنَا ؟ قَالَ : " حَوَّاءُ " . قَالَ : مَنْ أَبُو الْجِنِّ ؟ قَالَ : " إِبْلِيسُ " . قَالَ : فَمَنْ أُمُّهُمْ ؟ قَالَ : " امْرَأَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کسی سے اس بارے میں سوال نہیں کروں گا ، ہمارے باپ ( یعنی بنی نوع انسان کے جدامجد ) کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا آدم علیہ السلام ، انہوں نے دریافت کیا : ہماری ماں کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سیدہ حواء رضی اللہ عنہا ، انہوں نے دریافت کیا : جنات کا جدامجد کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابلیس ، انہوں نے دریافت کیا : اُن کی ماں کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی بیوی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔