حدیث نمبر: 9302
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ : مَا تُسَمُّونَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ فِيكُمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى لَيْسَ لَهُمْ فِيكُمْ نَسَبٌ وَلَا قَرَابَةٌ ؟ قُلْتُ : نُسَمِّيهِمُ الْعُلُوجَ وَالسُّقَاطَ . فَقَالَتْ عَائِشَةَ : كُنَّا نُسَمِّيهِمُ الْمُهَاجِرِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الشَّامِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

عمران بن حطان بیان کرتے ہیں : ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : جو لوگ تمہارے پاس آتے ہیں جن کا تعلق دوسری بستیوں سے ہوتا ہے تمہارے درمیان ان کا نسب نہیں ہوتا کوئی رشتہ داری نہیں ہوتی ہے ، تو تم انہیں کیا نام دیتے ہو ؟ میں نے کہا: ہم انہیں علوج اور سقاط کہتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ان لوگوں کو مہاجرین کہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن موسیٰ شامی کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (135) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2048)»