حدیث نمبر: 9285
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهَاجَرِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَتْقَذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تُقِيلُ حَيْثُ يُقِيلُونَ وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِلَى الْمَدِينَةِ فِي الْمَغَازِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی جو تمہارے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ہجرت کے مقام کی طرف ہو گی ، یہاں تک کہ زمین میں صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور ان کی زمین انہیں پھینکے گی اور رحمان کی روح انہیں برا کرے گی اور آگ ان کا حشر بندروں اور خنزیروں کے ساتھ کرے گی وہ لوگ جہاں رکیں گے وہ آگ وہاں رکے گی وہ لوگ جہاں رات بسر کریں گے وہ آگ ان کے ہمراہ رات بسر کرے گی ان میں سے جو شخص آگ میں گرے گا وہ آگ کا ہو جائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں احادیث آگے چل کر ” مغازی “ سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9285
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5562)»