حدیث نمبر: 9275
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ : " النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ " وَقَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ " . ¤ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ : كَذَبْتَ . وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خُدَيْجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ وَلَكِنْ هَذَا يَخَافُ أَنْ تَنْزِعَهُ عَنْ عَرَافَةِ قَوْمِهِ ، وَهَذَا يَخْشَى أَنْ تَنْزِعَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَا ؛ فَرَفَعَ مَرْوَانُ عَلَيْهِ الدِّرَّةَ لَيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا : صَدَقَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا اور پوری سورت کو پڑھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” دیگر لوگ ایک جگہ میں ہیں ، اور میں اور میرے اصحاب ایک جگہ میں ہیں ، آپ نے فرمایا : فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت ہیں“ ( راوی کہتے ہیں : ) تو مروان نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اس وقت مروان کے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی پلنگ پر اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ دونوں چاہیں ، تو یہ بھی تمہیں یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں لیکن یہ صاحب اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ تم انہیں ان کی قوم کے عہدے دار کے عہدے سے الگ کر دو گے اور یہ دوسرے صاحب اس بات سے ڈرتے ہیں کہ تم انہیں صدقہ کی وصولی سے الگ کر دو گے یہ دونوں صاحبان خاموش رہے مروان نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے درہ اٹھایا جب ان دونوں صاحبان نے یہ بات دیکھی تو ان دونوں نے کہا: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9276
وَعَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِابْنِ أَخٍ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اپنے بھتیجے کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہجرت کی بیعت لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! بلکہ اس سے اسلام کی بیعت لی جائے گی ، کیونکہ فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف یحیی بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف یحیی بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9277
وَعَنْ غَزِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنْ شَبَابًا مِنْ قُرَيْشٍ أَرَادُوا أَنْ يُهَاجِرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَهَاهُمْ آبَاؤُهُمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا هُوَ الْجِهَادُ وَالنِّيَّةُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غزید بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش کے کچھ نوجوانوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کریں ان کے اباؤ اجداد نے انہیں اس سے منع کر دیا ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی اب جہاد اور نیت نہیں “ ۔
حدیث نمبر: 9278
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ غَزِيَّةَ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا هِيَ ثَلَاثٌ : الْجِهَادُ وَالنِّيَّةُ وَالْحَشْرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كُلَّهُ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا غزیہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی یہ تین چیزیں ہیں جہاد ، نیت اور حشر“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی تمام اسناد مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی تمام اسناد مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9279
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ غَزِيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ إِنَّمَا هُوَ الْإِيمَانُ وَالنِّيَّةُ وَالْحَشْرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن غزیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی اب ایمان نیت اور حشر ہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبیداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبیداللہ بن ابوفروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9280
وَعَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتِلُ " . ¤ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْهِجْرَةُ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا هَجْرُ السَّيِّئَاتِ ، وَالْأُخْرَى يُهَاجِرُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ ، وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ ، فَإِذَا طَلَعَتْ طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ وَكُفِيَ النَّاسُ الْعَمَلَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ بَعْضَ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ حَدِيثِ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، وَالْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَابْنِ السَّعْدِيِّ فَقَطْ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جائے گی “ ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے ایک قسم وہ ہے کہ جو برائیوں سے لاتعلق ہونا ہے اور دوسری قسم اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنا ہے تو ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی اور توبہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہو جاتا اور جب وہ ( سورج مغرب کی طرف سے ) طلوع ہو جائے گا ، تو ہر دل پر اس میں موجود کیفیت کے حوالے سے مہر لگا دی جائے گی اور عمل کے حوالے سے لوگوں کی کفایت ہو جائے گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤ داور امام نسائی رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس میں انہوں نے سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ امام بزار نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس میں انہوں نے سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل نہیں کی ہے ۔ امام بزار نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9281
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بَعْضُهُمْ : الْهِجْرَةُ قَدِ انْقَطَعَتْ فَاخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدِ انْقَطَعَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْهِجْرَةَ لَا تَنْقَطِعُ مَا كَانَ الْجِهَادُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جنادہ بن ابوامیه رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے کہا: ہجرت منقطع ہو چکی ہے ان لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! الوگ یہ کہہ رہے ہیں ہجرت منقطع ہو گئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تک جہاد ہے ہجرت منقطع نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9282
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالُوا لَهُ : احْفَظْ رِحَالَنَا ثُمَّ تَدْخُلُ ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " ادْخُلْ " فَدَخَلَ ، فَقَالَ : " حَاجَتُكَ ؟ " قَالَ : حَاجَتِي تُحَدِّثُنِي : أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَاجَتُكَ خَيْرٌ مِنْ حَوَائِجِهِمْ ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو مالک بن حنبل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے کچھ ساتھیوں سمیت آئے لوگوں نے ان سے کہا: کہ تم ہماری سواریوں کی حفاظت کرو ، اور پھر تم آ جانا وہ ان لوگوں میں سب سے کمسن تھے ۔ انہوں نے ان لوگوں کے تمام کام کیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : میں آ جاؤں ؟ وہ اندر آ گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ کام ہے کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا ہجرت ختم ہو چکی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ، جو کام ہے وہ ان لوگوں کی ضرورت سے زیادہ بہتر ہے ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9283
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الرَّسُولِ الَّذِي سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ : " لَا تَنْقَطِعُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَحَيْوَةُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
رجاء بن حیوہ نے اپنے والد کے حوالے سے اس قاصد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک دشمن کے ساتھ جنگ کی جائے گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے حیوہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے حیوہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9284
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَنْقَطِعَ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْكُفَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہجرت اس وقت تک منقطع نہیں ہو گی جب تک کفار کے ساتھ جنگ کی جاتی رہے گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ راحبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ راحبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9285
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَتَكُونَنَّ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ إِلَى مُهَاجَرِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، حَتَّى لَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ إِلَّا شِرَارُ أَهْلِهَا وَتَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ وَتْقَذَرُهُمْ رُوحُ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ تُقِيلُ حَيْثُ يُقِيلُونَ وَتَبِيتُ حَيْثُ يَبِيتُونَ وَمَا سَقَطَ مِنْهُمْ فَلَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ وَإِلَى الْمَدِينَةِ فِي الْمَغَازِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی جو تمہارے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ہجرت کے مقام کی طرف ہو گی ، یہاں تک کہ زمین میں صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور ان کی زمین انہیں پھینکے گی اور رحمان کی روح انہیں برا کرے گی اور آگ ان کا حشر بندروں اور خنزیروں کے ساتھ کرے گی وہ لوگ جہاں رکیں گے وہ آگ وہاں رکے گی وہ لوگ جہاں رات بسر کریں گے وہ آگ ان کے ہمراہ رات بسر کرے گی ان میں سے جو شخص آگ میں گرے گا وہ آگ کا ہو جائے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں احادیث آگے چل کر ” مغازی “ سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو باغیوں کے ساتھ جنگ کرنے کے بارے میں ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حبشہ اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں احادیث آگے چل کر ” مغازی “ سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔