حدیث نمبر: 9286
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : خَرَجْتُ مُهَاجِرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى فَلَمَّا سَلَّمَ وَالنَّاسُ مِنْ بَيْنِ خَارِجٍ وَقَائِمٍ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرَى جَالِسًا إِلَّا دَنَا إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ : " هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ ؟ " وَبَدَأَ بِالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ بِالثَّانِي ، ثُمَّ الثَّالِثِ حَتَّى دَنَا إِلَيَّ فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَمَا حَاجَتُكَ ؟ " قُلْتُ : الْإِسْلَامُ . قَالَ : " هُوَ خَيْرٌ لَكَ " قَالَ : " وَتُهَاجِرُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " هِجْرَةَ الْبَادِيَةِ أَوْ هِجْرَةَ الْبَاتَّةِ ؟ " قُلْتُ : أَيُّهُمَا أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " هِجْرَةُ الْبَاتَّةِ . وَهِجْرَةُ الْبَاتَّةِ أَنْ تَثْبُتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهِجْرَةُ الْبَادِيَةِ : أَنْ تَرْجِعَ إِلَى بَادِيَتِكَ وَعَلَيْكَ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَمَكْرَهِكَ وَمَنْشَطِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ " . قَالَ : فَبَسَطْتُ يَدِيَ إِلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ وَاسْتَثْنَى لِي حَيْثُ لَمْ أَسْتَثْنِ لِنَفْسِي قَالَ : " فِيمَا اسْتَطَعْتَ " . قَالَ : وَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي ، فَوَافَقْتُ أَبِي جَالِسًا فِي الشَّمْسِ يَسْتَدْبِرُهَا فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ بِتَسْلِيمِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : أَصَبَوْتَ ؟ فَقُلْتُ : أَسْلَمْتُ . فَقَالَ : لَعَلَّ اللَّهَ يَجْعَلُ لَنَا وَلَكَ فِيهِ خَيْرًا ، فَرَضِيتُ بِذَلِكَ مِنْهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جب آپ نے سلام پھیرا تو کچھ لوگ نکل رہے تھے کچھ کھڑے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی کھڑے ہوئے شخص کو دیکھا آپ اس کے پاس گئے ، اور اس سے دریافت کیا : کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ آپ نے پہلی صف میں ایسا کیا پھر دوسری صف میں کیا پھر تیسری صف میں کیا یہاں تک کہ جب آپ میرے پاس تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ۔ میں نے عرض کی : اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم ہجرت کرو گے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بادیہ ہجرت یا باتہ ہجرت ؟ میں نے عرض کی دونوں میں کون سی زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : باتہ ہجرت ، باتہ ہجرت یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول کے ساتھ رہو اور بادیہ ہجرت یہ ہے کہ تم اپنے علاقے کی طرف واپس چلے جاؤ ، تنگی اور آسانی ناپسندیدگی اور پسندیدگی اور اپنے ساتھ ترجیحی سلوک ( ہر حال میں ) اطاعت و فرمانبرداری کرنا تم پر لازم ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھایا اور آپ کی بیعت کر لی آپ نے میرے لیے اس چیز کا استثناء کیا جس چیز کا میں نے استثناء اپنے لئے نہیں کیا تھا آپ نے فرمایا : ( یہ بیعت اس حد تک ہو گی ) جہاں تک تمہاری استطاعت ہو ۔ راوی کہتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا تو میں نکل کر اپنے اہل خانہ کی طرف گیا میں نے اپنے والد کو دھوپ میں بیٹھے ہوئے پایا انہوں نے دھوپ کی طرف پشت کی ہوئی تھی میں نے انہیں اسلام کے طریقے کے مطابق سلام کیا انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے دین تبدیل کر لیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے اسلام قبول کر لیا ہے انہوں نے فرمایا : شاید اللہ تعالیٰ اسے ہمارے لئے اور تمہارے لئے بہتر کر دے تو میں ان کی اس بات سے راضی ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9286
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (80/22)»