مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ باب: ہجرت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِابْنِ أَخٍ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ يُبَايِعُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَإِنَّهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ ، وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَيَكُونُ مِنَ التَّابِعِينَ بِإِحْسَانٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ اپنے بھتیجے کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہجرت کی بیعت لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! بلکہ اس سے اسلام کی بیعت لی جائے گی ، کیونکہ فتح کے بعد ہجرت نہیں رہی یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” یہ احسان کے ہمراہ پیروی کرنے والوں میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں صرف یحیی بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔