حدیث نمبر: 9265
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَا يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعْنِهُمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تم پر ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے ، جو شخص ان کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا “ اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ شخص حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا ، اور جو شخص اُن کے جھوٹ کے حوالے سے اُن کی تصدیق نہیں کرے گا ، اور ان کی ( ظلم میں ) مدد نہیں کرے گا ، اس کا مجھ سے تعلق ہو گا ، اور میرا اُس سے تعلق ہو گا ، اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آئے گا “ ۔ یہ راویت امام أحمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی اسانید میں سے ، ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور امام أحمد کے رجال کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1607 و 1606) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3019) اخرجه احمد فى المسند (384/5)»