حدیث نمبر: 9266
وَعَنْ خَبَّابٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ بَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " أَتَسْمَعُونَ ؟ " قُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - قَالَ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ سنتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم سن رہے ہیں یہ مکالمہ دو یا شاید تین مرتبہ ہوا پھر آپ نے فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ تم ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ان کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا وہ حوض پر میرے پاس نہیں آئے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3627) اخرجه احمد فى الپسند (395/6)»