مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُصَدِّقُ الْأُمَرَاءَ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِينُهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اُمراء کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرتا ہے
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ خَفَّضَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَةٌ ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اُس وقت عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر اسے جھکا لیا ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آسمان میں کوئی چیز رونما ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ، جو ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے ، جو شخص اُن کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا ، اور ان کے ظلم میں ان کا ساتھ نہیں دے گا ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اُس سے تعلق ہو گا ، خبردار ! مسلمان کا خون ، کفارہ ہے ، خبر دار ! سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر پڑھنا ، باقی رہنے والی نیکیاں ہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ، باقی رہنے والی نیکیوں کے بارے میں ، ایک حدیث منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے اور اسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔