حدیث نمبر: 9263
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ : " أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ " . قَالَ : وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ ؟ قَالَ : " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُونَ عَلَى حَوْضِي . ¤ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصِّيَامُ جَنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ - أَوْ قَالَ : بُرْهَانٌ . ¤ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعُ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ بَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مَنْ سُحْتٍ ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ " . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں بے وقوفوں کی حکومت سے بچا کے رکھے ! انہوں نے دریافت کیا : بے وقوفوں کی حکومت سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچھ حکمران ، جو میرے بعد ہوں گے ، وہ میری ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ، میری سنت کی پیروی نہیں کریں گے ، جو شخص اُن کے جھوٹ کے حوالے سے ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے گا ، تو ایسے لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ میرے حوض پر نہیں آئیں گے اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا ، تو ایسے لوگوں کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اُن سے تعلق ہو گا اور وہ لوگ عنقریب میرے حوض پر آئیں گے “ ۔ اے کعب بن عجرہ ! روزہ ، ڈھال ہے ، اور صدقہ ، گناہ کو بجھا دیتا ہے ، نماز ، قربت کے حصول کا باعث ہے ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) برہان ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو قسم کی حالت میں ہوتے ہیں کوئی شخص اپنے آپ کو خرید کر ، خود کو آزاد کروا دیتا ہے اور کوئی اپنے آپ کو فروخت کر کے ، خود کو ہلاکت کا شکار کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کی نشو و نما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ، آگ اس کی زیادہ حقدار ہے “ ۔ ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1609) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1999) اخرجه احمد فى المسند (321/3)»