مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُصَدِّقُ الْأُمَرَاءَ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِينُهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اُمراء کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرتا ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيَكُونُ بَعْدِي عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ ، يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي الْمَسْجِدِ تِسْعَةُ نَفَرٍ - أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمَوَالِي وَخَمْسَةٌ مِنَ الْعَرَبِ - فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَمَنْ أَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَغَشِي أَبْوَابَهُمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ ، وَمَنْ لَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ قُعَيْسٍ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے بعد عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو تمہیں ان کاموں کا حکم دیں گے ، جو وہ خود نہیں کرتے ہوں گے ، جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا ، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر ، میرے پاس نہیں آ سکے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اس وقت مسجد میں ، نو افراد موجود تھے ، جن میں سے چار کا تعلق موالی سے تھا اور پانچ کا تعلق عربوں سے تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے کہ جو شخص اُن کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور اُن کے دروازوں پر جائے گا ، اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور وہ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا ، اور جو شخص اُن کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اور اُن کے جھوٹ کے حوالے سے اُن کی تصدیق نہیں کرے گا ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا ، اور میرا اُس سے تعلق ہو گا اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آ جائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن قعیس ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔