حدیث نمبر: 9208
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ عَطَاءً ، فَإِذَا صَارَ رِشْوَةً عَلَى الدِّينِ فَلَا تَأْخُذُوهُ ، وَلَسْتُمْ بِتَارِكِيهِ يَمْنَعُكُمُ الْفَقْرَ وَالْحَاجَةَ ، ( أَلَا إِنَّ رَحَا بَنِي مَرَحٍ قَدْ دَارَتْ ، وَقَدَ قُتِلَ بَنُو مَرَحٍ ) أَلَا إِنَّ رَحَا الْإِسْلَامِ دَائِرَةٌ ، فَدُورُوا مَعَ الْكِتَابِ حَيْثُ دَارَ ، أَلَا إِنَّ الْكِتَابَ وَالسُّلْطَانَ سَيَفْتَرِقَانِ فَلَا تُفَارِقُوا الْكِتَابَ . أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَقْضُونَ لِأَنْفُسِهِمْ مَا لَا يَقْضُونَ لَكُمْ ، فَإِنْ عَصَيْتُمُوهُمْ قَتَلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ أَضَلُّوكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَصْنَعُ ؟ قَالَ : " كَمَا صَنَعَ أَصْحَابُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ، نُشِرُوا بِالْمَنَاشِيرِ وَحُمِلُوا عَلَى الْخَشَبِ مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَيَزِيدُ بْنُ مَرْثَدٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَالْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سرکاری عطیات ، اُس وقت تک وصول کرو ، جب تک وہ عطیات رہیں ، جب وہ دین کے بارے میں رشوت بن جائیں ، تو تم انہیں نہ لو ، لیکن تم انہیں نہیں چھوڑو گے ، وہ تمہیں غربت اور حاجت مندی سے بچاتے ہیں ، خبردار ! بنومرح کی چکی گھومتی رہی اور پھر بنومرح قتل ہو گئے ، اور اسلام کی چکی گھومتی رہے گی ، تو تم کتاب کے حکم کے ہمراہ گھومتے رہو ، خواہ وہ جہاں بھی جائے ، خبردار ! کتاب اور حکمران ، عنقریب جدا ہو جائیں گے ، تو تم کتاب سے جدا نہ ہونا ، خبردار ! عنقریب تم پر ایسے حکمران آئیں گے ، جو اپنے لیے ایسے فیصلے دیں گے ، جو وہ تمہارے حق میں نہیں دیں گے ، اگر تم اُن کی نافرمانی کرو گے ، تو وہ تمہیں قتل کروا دیں گے ، اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے ، تو وہ تمہیں گمراہ کر دیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُسی طرح ( کرنا چاہیے ) جس طرح سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھیوں نے کیا تھا ، ان لوگوں کو آروں کے ذریعے چیر دیا گیا اور سولی پر لٹکا دیا گیا انہوں نے موت کو گلے لگا لیا ، لیکن دین کو نہیں چھوڑا ) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی حالت میں مر جانا اللہ تعالیٰ کی معصیت کی حالت میں زندہ رہنے سے بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یزید بن مرثد نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور وضین بن عطاء نامی راوی کو ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9208
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (749) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (90/20)»