حدیث نمبر: 9202
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : اسْتِشْفَاءٌ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْقَدَرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تین امور کے حوالے سے ، مجھے اپنی امت کے بارے میں اندیشہ ہے ، ستاروں کی وجہ سے شفاء کے حصول کی توقع رکھنا حکمرانوں پر حیف اور تقدیر کا انکار کرنا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو تقدیر سے متعلق باب میں مذکور ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (112) أخرجه أبو يعلى فى المسند (7470 و 7462) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1853) أخرجه احمد فى المسند (89/5)»