مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ وَأَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ . باب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : اسْتِشْفَاءٌ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْقَدَرِ . ¤سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تین امور کے حوالے سے ، مجھے اپنی امت کے بارے میں اندیشہ ہے ، ستاروں کی وجہ سے شفاء کے حصول کی توقع رکھنا حکمرانوں پر حیف اور تقدیر کا انکار کرنا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو تقدیر سے متعلق باب میں مذکور ہیں ۔