حدیث نمبر: 9201
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : " أَلَا إِنِّي أُوشِكُ فَأُدْعَى فَأُجِيبُ ، فَيَلِيكُمْ عُمَّالٌ مِنْ بَعْدِي يَعْمَلُونَ بِمَا تَعْلَمُونَ وَيَعْمَلُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَطَاعَةُ أُولَئِكَ طَاعَةٌ فَتَلْبَثُونَ كَذَلِكَ زَمَانًا ثُمَّ يَلِيكُمْ عُمَّالٌ مِنْ بَعْدِهِمْ يَعْمَلُونَ بِمَا لَا تَعْلَمُونَ وَيَعْمَلُونَ بِمَا لَا تَعْرِفُونَ فَمَنْ قَادَهُمْ وَنَاصَحَهُمْ فَأُولَئِكَ قَدْ هَلَكُوا وَأَهْلَكُوا وَخَالِطُوهُمْ بِأَجْسَادِكُمْ وَزَايِلُوهُمْ بِأَعْمَالِكُمْ وَاشْهَدُوا عَلَى الْمُحْسِنِ أَنَّهُ مُحْسِنٌ وَعَلَى الْمُسِيءِ بِأَنَّهُ مُسِيءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ، اپنے خطبے کے دوران ہم سے یہ ارشاد فرمایا : ” خبردار ! عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا اور میں نے جانا ہو گا ، میرے بعد ایسے لوگ حکمران بنیں گے ، جو اُسی طرح کے عمل کریں گے ، جن سے تم واقف ہو اور ایسے عمل کریں گے ، جو تمہیں معروف لگیں گے ، اُن لوگوں کی فرمانبرداری کرنا ہی حقیقی فرمانبرداری ہے ، کچھ عرصے تک اسی طرح کی صورت حال رہے گی ، پھر اُن کے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران بن جائیں گے ، جو ایسے عمل کریں گے جو تمہارے علم کے مطابق ( ٹھیک ) نہیں ہوں گے اور وہ ایسے عمل کریں گے جو تمہارے نزدیک معروف ( یعنی نیکی ) نہیں ہوں گے جو شخص اُن کے ساتھ چلے گا اور ان کی خیرخواہی کرے گا ، تو یہ لوگ خود ہلاکت کا شکار ہوں گے اور دوسروں کو ہلاکت کا شکار کریں گے ، تم جسمانی طور پر اُن سے ملتے رہنا ، لیکن اپنے اعمال کے حوالے سے ، اُن سے الگ رہنا اور اچھائی کرنے والے کے بارے میں یہ گواہی دینا کہ وہ اچھائی کرنے والا ہے اور برائی کرنے والے کے بارے میں یہ گواہی دینا کہ وہ برائی کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد محمد بن علی مروزی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف