مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ وَأَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ . باب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ - صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مُسِنًّا فَجَاءَهُ غُلَامُهُ فَقَالَ : يَا مَوْلَايَ هَذِهِ جِمَالُكَ قَدْ أُخِذَتْ فِي سُخْرَةِ الرِّيلَةِ - يَعْنِي دَارَ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الَّتِي عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِ حِمْصَ - وَكَانَ مَعَهُ رَجُلَانِ فَأَخَذَ بِضَبْعَيْهِ حَتَّى قَامَ ، قَالَ عُمَرُ : فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى الرِّيلَةَ فَإِذَا جِمَالُهُ مُنَاخَةٌ وَإِذَا هُمْ يَسُفُّونَ التُّرَابَ بِالْغَرَائِرِ فَأَخَذَ الْغِرَارَةَ وَجَعَلَ يَفْتَحُ لَهُمْ فَقَالَ نَاسٌ مِنَ النَّصَارَى : هَذَا صَاحِبُ نَبِيِّكُمْ تَصْنَعُونَ بِهِ هَذَا لَوْ رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ عِيسَى حَمَلْنَاهُ عَلَى رُؤُوسِنَا ، فَأَهْوَى الْقَوْمُ لِيَأْخُذُوهُ فَقَالَ : دَعُونِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا جَارَتْ عَلَيْكُمُ الْوُلَاةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . وَعُمَرُ بْنُ بِلَالٍ جَهِلَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤عمر بن بلال بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ، سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، وہ ایک بوڑھے ، عمر رسیدہ شخص تھے ، اُن کا غلام اُن کے پاس آیا اور بولا: اے میرے آقا ! آپ کا یہ اونٹ ” سخرہ ریلہ “ میں پکڑا گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یعنی مسجد کے دروازے کے پاس موجود ، عباس بن ولید کے گھر میں پکڑا گیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو افراد تھے ، انہوں نے دونوں پہلوؤں سے انہیں پکڑا ، وہ کھڑے ہوئے ، عمر بن بلال کہتے ہیں : میں ان کے ساتھ چل کر گیا ، وہ آئے ، وہاں اُن کا اونٹ بندھا ہوا تھا ، اُن لوگوں نے برتنوں میں ڈال کر ان پر مٹی پھینکنا شروع کی ، انہوں نے برتن پکڑا اور ان لوگوں کے لیے اس کو کھولنا شروع کر دیا ، تو عیسائیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے یہ کہا: یہ تمہارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صحابی ہیں ، اور تم ان کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو ؟ اگر ہم نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب میں سے کسی شخص کو پایا ہوتا ، تو ہم انہیں سروں پر اُٹھاتے ، پھر کچھ لوگ انہیں پکڑنے کے لیے آگے بڑھے ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے چھوڑ دو ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اُس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تمہارے حکمران تم پر ظلم کریں گے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، عمر بن بلال نامی راوی کو ابن عدی نے مجہول قرار دیا ہے ۔