حدیث نمبر: 9163
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ : لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى - وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ - فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ : مَا فَعَلَ وَالِدُكَ ؟ قُلْتُ : قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ . قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ ، قَالَ : قُلْتُ : الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا ؟ قَالَ : بَلِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا . قَالَ : قُلْتُ : فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ وَيَفْعَلُ بِهِمْ ؟ قَالَ : فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا غَمْزَةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ قَالَ : وَيَحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ - مَرَّتَيْنِ - إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَائْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اُن کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، میں نے انہیں سلام کیا ، تو انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں سعید بن جمہان ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارے والد کا کیا حال ہے ؟ میں نے بتایا : انہیں ازارقہ نے قتل کر دیا ہے ، انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ لوگ جہنم کے کتے ہیں ، میں نے دریافت کیا : صرف ازارقہ ؟ یا تمام خوارج ؟ انہوں نے فرمایا : بلکہ تمام خوارج ، میں نے دریافت کیا : اگر کوئی حکمران لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور اُن کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے زور سے چبھویا اور پھر بولے : اے ابن جمہان ! تمہارا ستیاناس ہو ، تم نے سواد اعظم کے ساتھ رہنا ہے ، یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی اور پھر بولے : اگر حکمران تمہاری بات سنتا ہے تو تم اس کے گھر میں ، اُس کے پاس جاؤ اور اپنے علم کے مطابق اسے اطلاع دو ! اگر وہ تمہاری بات کو قبول کر لیتا ہے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، کیونکہ تم اس سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں ہو گے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (382/4)»