حدیث نمبر: 9162
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَقَعَ عَلَى صَاحِبِ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَأَغْلَظَ لَهُ الْقَوْلَ وَمَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامٌ يَعْتَذِرُ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا عِيَاضُ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا " ؟ . ¤ فَقَالَ لَهُ عِيَاضٌ : إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الَّذِي سَمِعْتَ ، وَرَأَيْنَا الَّذِي رَأَيْتَ ، وَصَحِبْنَا مَنْ صَحِبْتَ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ يَا هِشَامُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ نَصِيحَةٌ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَإِسْنَادُهُ مُتَّصِلٌ . ¤
محمد محی الدین

جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کو کوڑے لگائے ، یہ اُس علاقے کے فتح ہونے کے بعد کی بات ہے ، تو ہشام بن حکیم نے اس بارے میں ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، کچھ دن گزرنے کے بعد ، ہشام بن حکیم ، اُن کے پاس آئے اور ان کے سامنے معذرت پیش کی ، اور یہ کہا: اے عیاض ! کیا آپ نہیں جانتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں میں ، سب سے زیادہ شدید عذاب ، اُس شخص کو ہو گا ، جو دنیا میں ، لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا ہو گا “ ۔ تو سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جو آپ نے سنا ہے وہ ہم نے بھی سنا ہے ، جو آپ نے دیکھا ہے ، وہ ہم نے بھی دیکھا ہے اور ہم بھی اُسی طرح صحابی ہیں ، جس طرح آپ صحابی ہیں ، لیکن اے ہشام ! کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : جس شخص کے پاس کوئی نصیحت ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (367/17)»