مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ النَّصِيحَةِ لِلْأَئِمَّةِ وَكَيْفِيَّتِهَا . باب: حکمرانوں کے لئے خیرخواہی اور خیرخواہی کی کیفیت کا بیان
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ وَغَيْرِهِ قَالَ : جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارٍ حِينَ فُتِحَتْ ، فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ ، ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ : أَلَمْ تَسْمَعْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا أَشَدُّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ " ؟ . ¤ فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ : يَا هِشَامُ بْنَ حَكِيمٍ قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِذِي سُلْطَانٍ بِأَمْرٍ فَلَا يُبْدِ لَهُ عَلَانِيَةً ، وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُو بِهِ ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ " ؟ . ¤ وَإِنَّكَ أَنْتَ يَا هِشَامُ لَأَنْتَ الْجَرِيءُ ، إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ ، فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ لِشُرَيْحٍ مِنْ عِيَاضٍ وَهِشَامٍ سَمَاعًا وَإِنْ كَانَ تَابِعِيًّا . ¤شریح بن عبید اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے ایک گھر کے مالک کو کوڑے لگائے ، یہ اس علاقے کے فتح ہونے کے بعد کی بات ہے ، تو ہشام بن حکیم نے اس بارے میں ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ، یہاں تک کہ سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، پھر کچھ دن گزرنے کے بعد ہشام بن حکیم ، ان کے پاس آئے اور ان کے سامنے معذرت پیش کی ، پھر ہشام نے یہ کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا ہے : ” لوگوں میں ، سب سے زیادہ شدید عذاب ، اُس شخص کو ہو گا ، جو دنیا میں ، لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا ہو گا“ ۔ تو سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ہشام بن حکیم ! جو آپ نے سنا ہے ، وہ ہم نے بھی سنا ہوا ہے ، لیکن جو ہم نے دیکھا ہے وہ آپ نے نہیں دیکھا ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص کسی حکمران کی خیرخواہی کرنے کا ارادہ رکھے ، تو وہ معاملہ اعلانیہ طور پر اس کے سامنے ظاہر نہ کرے ، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر ، اسے تنہائی میں لے جائے ، اگر وہ حکمران اُس کی بات کو قبول کر لے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس نے اپنے ذمہ لازم فرض کو ادا کر دیا “ ۔ اے ہشام ! تم اس حوالے سے جرات مند ہو ، تم نے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حکمران کے سامنے جرات کا مظاہرہ کیا ہے ، تم اس بات سے ڈرے کیوں نہیں ؟ کہ سلطان تمہیں قتل کروا سکتا ہے ، اور تم اللہ کے سلطان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے فرد بن جاتے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ، جو ہشام سے منقول روایت ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں نے شریح کے سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ یا سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے سماع کے بارے میں کوئی روایت نہیں پائی ہے ، اگرچہ وہ تابعی ہے ۔