مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِصَصِ . باب: قصے بیان کرنے کا بیان
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا ، لَتُتَابِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ ، قَالَ : وَمَا هُنَّ ؟ بَلْ أُتَابِعُكَ أَنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : اجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا ، وَلَا تُلْحِنِ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ ، وَلَا أَلْفَيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ ، وَلَكِنِ اتْرُكْهُمْ ، فَإِذَا حَدَوْكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اہل مدینہ کے واعظ ابن ابوسائب سے تین مرتبہ یہ فرمایا تھا : یا تو تم ان چیزوں کے حوالے سے میری فرمانبرداری کرو ، یا میں تمہیں سزا دوں گی ، تو اس نے کہا: وہ چیزیں کیا ہیں ؟ اے ام المؤمنین ! میں آپ کی پیروی کروں گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم دعا مانگتے ہوئے مسجع الفاظ سے اجتناب کرو ! کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایسا نہیں کیا کرتے تھے ، لوگوں کے سامنے ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کرو ، اگر نہیں مانتے جو دو مرتبہ کر لو ، اگر یہ بھی نہیں مانتے تو تین مرتبہ کر لو ، اور لوگوں کو یہ کتاب لحن کے ساتھ نہ سناؤ اور میں تمہیں ایسی حالت میں نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ ، وہ آپس میں بات چیت کر رہے ہوں اور تم ان کی بات چیت ختم کروا دو ، بلکہ انہیں ایسے ہی رہنے دو ، جب وہ تمہیں اس بارے میں کہیں اور تمہیں اس کا حکم دیں ، تو ان سے گفتگو شروع کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔