مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْقِصَصِ . باب: قصے بیان کرنے کا بیان
وَعَنِ الْعَبَادِلَةِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقَاصُّ يَنْتَظِرُ الْمَقْتَ ، وَالْمُسْتَمِعُ يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ ، وَالتَّاجِرُ يَنْتَظِرُ الرِّزْقَ ، وَالْمُحْتَكِرُ يَنْتَظِرُ اللَّعْنَةَ ، وَالنَّائِحَةُ وَمَنْ حَوْلِهَا مِنِ امْرَأَةٍ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤حضرات عبادلہ ، یعنی سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا عبداللہ بن عباس ، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم ، یہ حضرات روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قصہ بیان کرنے والا ناراضگی کا منتظر ہوتا ہے ، سننے والا رحمت کا منتظر ہوتا ہے ، تاجر رزق کا منتظر ہوتا ہے ، ذخیرہ اندوزی کرنے والا لعنت کا منتظر ہوتا ہے ، نوحہ کرنے والی عورت اور اُس کے اردگرد جتنی عورتیں موجود ہوتی ہیں ، اُن پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور انسانوں ، سب کی لعنت ہوتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عبدالرحمان انصاری ہے اس نے عبداللہ بن مجاہد بن جبر کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔