مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ عَنِ الْأُمَّةِ وَقِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا ، امت سے خروج اور ان سے جنگ کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ " . قَالَ : فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ . " إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ وَتَرْكِ السُّنَّةَ " . قَالَ : " أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ فَأَنْ تُعْطِيَ الرَّجُلَ بَيْعَتَكَ ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكَ ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک نماز اپنے سے پہلے کی نماز کے درمیان کی چیزوں کا کفارہ بن جاتی ہے البتہ تین امور کا معاملہ مختلف ہے راوی کہتے ہیں : ہمیں اندازہ ہو گیا کہ کوئی نیا حکم سامنے آیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اس چیز کا معاملہ مختلف ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جائے یا سودے کو ختم کر دیا جائے یا سنت کو ترک کر دیا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( یا راوی نے کہا: ) جہاں تک سودے کو ختم کرنے کا تعلق ہے ، تو وہ یہ ہے کہ تم کسی شخص کی بیعت کرو اور پھر تلوار لے کر اس سے جنگ کرنے چل پڑو اور سنت کو ترک کرنے سے مراد یہ ہے کہ جماعت سے نکل جانا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔