حدیث نمبر: 9131
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ طَاعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَإِنْ خَلَعَهَا مِنْ بَعْدِ عَقْدِهَا فِي عُنُقِهِ لَقِيَ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيْسَتْ لَهُ حُجَّةٌ ، أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ إِلَّا مَحْرَمٌ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " بَعْدَ عَقْدِهِ إِيَّاهَا فِي عُنُقِهِ " . وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس پر کسی کی اطاعت نہ ہو تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اگر وہ اس ( اطاعت ) کو اپنی گردن میں باندھ لینے کے بعد اسے اتار دے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اس کی کوئی حجت نہیں ہو گی خبردار کوئی شخص کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا البتہ اگر عورت کا ) کوئی محرم ہو تو حکم مختلف ہے شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے ، اور دو سے زیادہ دور ہوتا ہے جس شخص کو اپنی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ یہ امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اس کے اس اطاعت کو اپنی گردن باندھ لینے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1636) اخرجه ابو يعلى فى المسند (7201) اخرجه أحمد فى المسند (446/3)»