مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ عَنِ الْأُمَّةِ وَقِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا ، امت سے خروج اور ان سے جنگ کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : " وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ " فَجَعَلَ يُعِيدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ ؟ " قُلْتُ : إِلَى السِّعَةِ وَالدَّعَةِ أَنْطَلِقُ فَأَكُونُ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ الْحَرَمِ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : إِلَى السِّعَةِ وَالدَّعَةِ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ ؟ " قَالَ : إِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَخَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ وَفِي ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلِيلٍ ضُرَيْبَ بْنَ نُفَيْرٍ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا ذَرٍّ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے راستہ بنا دے گا ، اور اسے وہاں سے رزق عطا کرے گا ، جو اس کے گمان میں بھی نہیں ہو گا ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے “ ۔ ( سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت میرے سامنے دہرائی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آ گئی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر اس وقت تم کیا کرو گے ، جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا میں نے عرض کی : میں گنجائش اور سہولت کی طرف جاؤں گا میں چلا جاؤں گا ، اور حرم کے کبوتروں میں سے ایک کبوتر بن جاؤں گا ( یعنی مکہ میں رہائش اختیار کر لوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے ، جب تمہیں مکہ سے نکال دیا جائے گا میں نے عرض کی : میں گنجائش اور سہولت کی طرف شام اور ارض مقدس کی طرف چلا جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے ، جب تمہیں وہاں سے نکال دیا جائے گا ۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس صورت میں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں اپنی تلوار اپنی گردن پر رکھ لوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم بات سنو اور اطاعت کرو خواہ ( حکم دینے والا حکمران ) کوئی حبشی غلام ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا آخری حصہ منقول ہے ، اور ابن ماجہ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلیل ضریب بن نفیر نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔