مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ عَنِ الْأُمَّةِ وَقِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا ، امت سے خروج اور ان سے جنگ کرنے کی ممانعت
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَاضْطَجَعَ فِيهِ ، فَكَانَ هُوَ بَيْتَهُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ( الْمَسْجِدَ ) لَيْلَةً فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ ( نَائِمًا ) مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيْنَ أَنَامُ ؟ وَهَلْ لِي ( مِنْ ) بَيْتٍ غَيْرُهُ ؟ فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ ؟ " قَالَ : إِذًا أَلْحَقُ بِالشَّامِ فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا . فَقَالَ لَهُ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ ؟ " قَالَ : إِذًا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيَكُونُ بَيْتِي وَمَنْزِلِي . قَالَ : " فَكَيْفَ بِكَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ ؟ " قَالَ : إِذًا فَآخُذُ سَيْفِي فَأُقَاتِلُ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ ( قَالَ ) ، فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : بَلَى ، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ حَتَّى تَلْقَانِي وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کر کے فارغ ہوتے تھے ، تو مسجد میں آ جاتے تھے اور وہاں لیٹ جاتے تھے مسجد ہی ان کا گھر تھا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت مسجد میں تشریف لائے ، تو انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مسجد میں سوئے ہوئے پایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے انہیں ٹہوکہ دیا تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں سویا ہوا نہیں پا رہا ہوں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کہاں سوؤں ؟ کیا میرا اس کے علاوہ کوئی اور گھر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ، جب لوگ تمہیں یہاں سے نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں شام چلا جاؤں گا کیونکہ شام ہجرت کی سرزمین ہے ، اور محشر کی سرزمین ہے ، اور انبیاء کی سرزمین ہے وہاں کے افراد میں سے ایک ہو جاؤں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا کہ جب وہ لوگ تمہیں شام سے بھی نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : اس صورت میں ، میں واپس آ جاؤں گا یہی میرا گھر اور ٹھکانہ ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا بنے گا ، جب وہ یہاں سے تمہیں دوبارہ نکال دیں گے ۔ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں تلوار پکڑوں گا ، اور جنگ کرنا شروع کر دوں گا یہاں تک کہ مر جاؤں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ان کے ہاتھ کو تھپتھپایا ، اور فرمایا : کیا میں اس سے زیادہ بہتر چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : وہ تمہیں جس طرف بھیجیں گے تم ادھر چلے جانا وہ تمہیں جس طرف ہانک کر لے جائیں گے تم ادھر چلے جانا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو اور تم اسی حالت میں ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ۔