حدیث نمبر: 9125
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَأَنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتِي ؟ " قَالُوا : بَلَى نَشْهَدُ أَنَّهُ مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ فَقَدْ أَطَاعَكَ وَمِنْ طَاعَةِ اللَّهِ طَاعَتُكَ . قَالَ : " فَإِنَّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ أَنْ تُطِيعُونِي وَمِنْ طَاعَتِي أَنْ تُطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ ، أَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ فَإِنْ صَلُّوا قُعُودًا فَصَلُّوا قُعُودًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَئِمَّتَكُمْ " بَدَلَ : " أُمَرَائَكُمْ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ کچھ اصحاب کے درمیان موجود تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جو شخص میری اطاعت کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں میری اطاعت کرنا بھی شامل ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے وہ آپ کی بھی اطاعت کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں آپ کی اطاعت بھی شامل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم اپنے امراء کی اطاعت کرو ، تم لوگ اپنے امراء کی اطاعت کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کریں ، تو تم لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے لفظ ” امراء “ کی جگہ لفظ ” آئمہ “ نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1631) أخرجه ابو يعلى فى المسند (5450) اخرجه احمد فى المسند (5679)»