حدیث نمبر: 9124
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : لَمَّا أَنْكَرَ النَّاسُ سِيرَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَزِعَ النَّاسُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ : اصْبِرُوا فَإِنَّ جَوْرَ إِمَامِكُمْ خَمْسِينَ عَامًا خَيْرٌ مِنْ هَرَجِ شَهْرٍ ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إِمَارَةٍ بَرَّةٍ أَوْ فَاجِرَةٍ ، فَأَمَّا الْبَرَّةُ فَتَعْدِلُ فِي الْقَسَمِ وَتُقَسِّمُ فَيْئَكُمْ فِيكُمْ بِالسَّوِيَّةِ ، وَأَمَّا الْفَاجِرَةُ فَيُبْتَلَى فِيهَا الْمُؤْمِنُ . وَالْإِمَارَةُ الْفَاجِرَةُ خَيْرٌ مِنَ الْهَرَجِ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرَجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ وَالْكَذِبُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رِزْقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے ولید بن عقبہ بن ابومعیط کے طرز عمل کو منکر قرار دیا ، تو لوگ گھبرا کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ صبر سے کام لو کیونکہ تمہارے حکمران کا پچاس سال تک ظلم کرنا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ایک ماہ کی قتل و غارت گری ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں کے لئے کسی امیر کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا گناہگار ہو اگر وہ نیک ہو اور تقسیم کرتے ہوئے عدل سے کام لے اور تمہارا مال فئے تمہارے درمیان برابری کے طور پر تقسیم کرے ، تو ٹھیک ہے ، اور اگر وہ گناہگار ہو تو پھر اس کی حکومت میں مومن شخص کو آزمائش کا شکار کیا جائے گا ، اور بری حکمرانی ، حرج سے بہتر ہے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! حرج سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : قتل و غارت گری اور جھوٹ“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب اللہ بن رزق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10210)»