حدیث نمبر: 9126
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - يَأْتِي فِي كِتَابِ الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ قُطْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ” اے لوگو تم پر اطاعت اختیار کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ رسی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جماعت کی صورت میں تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو وہ اس سے زیادہ بہتر ہو گی جو علیحدگی کی صورت میں تم پسند کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے جو فتنوں سے متعلق کتاب میں آگے آئے گی اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن قطبہ ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8971)»