حدیث نمبر: 9107
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ يَسِيرٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتَنِ ؟ فَقَالَ : إِنَّا لَا نَكْتُمُ شَيْئًا ، عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالْجَمَاعَةِ ، وَإِيَّاكَ وَالْفُرْقَةَ فَإِنَّهَا هِيَ الضَّلَالَةُ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ لِيَجْمَعَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ضَلَالَةٍ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ الثَّانِيَةِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یسیر کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو میری ملاقات سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں ان کے پیچھے آیا میں نے ان سے دریافت کیا : میں نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ فتنوں کے بارے میں آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہم کوئی چیز نہیں چھپائیں گے تم پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا اور جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، اور تم پر فرقہ بندی سے بچ کے رہنا لازم ہے ، کیونکہ یہ گمراہی ہے اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور اس دوسرے طریق کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (240/13)»