مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَطَاعَةُ الْأَئِمَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ قِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 9108
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ وَالْمَسْجِدِ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ زِيَادٍ قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شیطان آدمی کے لئے بھیڑیے کی مانند ہے جس طرح بکریوں کے لیے بھیٹریا ہوتا ہے کہ وہ الگ ہونے والی اور کونے پر موجود بکری کو پکڑ لیتا ہے ، اور تم گھاٹیوں سے بچ کر رہنا ، اور تم پر جماعت کے ساتھ رہنا عام افراد کے ساتھ رہنا اور مسجد میں آنا لازم ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ علاء بن زیاد کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔