حدیث نمبر: 9106
وَعَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا مَسْعُودٍ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ احْتَجَبَ فِي بَيْتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِ النَّاسِ فَقَالَ : عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْمَعْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ضَلَالَةٍ ، وَاصْبِرْ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَيُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ . ¤
محمد محی الدین

یسیر بن عمرو بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے لوگوں کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا : ، تو انہوں نے فرمایا : تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا تم صبر سے کام لو یہاں تک کہ نیک شخص راحت حاصل کرے یا برے شخص سے راحت حاصل ہو جائے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9106
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/17)»