مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَطَاعَةُ الْأَئِمَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ قِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 9093
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ السَّامِعَ الْمُطِيعَ لَا حُجَّةَ عَلَيْهِ وَإِنَّ السَّامِعَ الْعَاصِي لَا حُجَّةَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : خَطَّ أَبِي عَلَى هَذِهِ الزِّيَادَةِ فَلَا أَدْرِي قَرَأَهَا عَلَيَّ أَمْ لَا ؟ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا جَبْلَةَ بْنَ عَطِيَّةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَمحمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” سننے والا اور اطاعت کرنے والا ، اس کے خلاف کوئی حجت نہیں ہو گی اور سننے والا اور نافرمانی کرنے والا اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میرے والد نے اس اضافے پر لکیر لگا دی تھی مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میرے سامنے اس کو پڑھا تھا یا نہیں پڑھا تھا ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ جبلہ بن عطیہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔