حدیث نمبر: 9067
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ضَرَبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا فَخَرَجُوا ، فَرَجَعَ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَلَمْ تَكُنْ خَرَجْتَ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَكِنِّي [ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدِيثًا أُرِيدُ أَنْ أَضَعَهُ عِنْدَكَ مَخَافَةَ أَنْ لَا تَلْقَانِي ] سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مِنْ وَلِيَ عَمَلًا فَحَجَبَ بَابَهُ عَنْ ذِي حَاجَةِ الْمُسْلِمِينَ ، حَجَبَهُ اللَّهُ أَنْ يَلِجَ بَابَ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِمَّتُهُ الدُّنْيَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِوَارِي ، فَإِنِّي بُعِثْتُ بِخَرَابِ الدُّنْيَا، وَلَمْ أُبْعَثُ بِعِمَارَتِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ جَبْرُونَ بْنِ عِيسَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ایک مہم بھیجی وہ لوگ روانہ ہوئے ابودحداح واپس آ گئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا تم گئے نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حدیث ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے یہ چاہا کہ میں اسے آپ کے سامنے بیان کر دوں اس اندیشے کے تحت کہ بعد میں میری آپ سے ملاقات نہ ہو ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے لوگو ! جو کسی کام کا نگران بنے اور پھر مسلمانوں کے حاجت مند افراد کے حوالے سے اپنے دروازے کو بند کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے محجوب کر دے گا کہ وہ جنت کے دروازے میں سے داخل ہو اور جس شخص کا مقصود دنیا ہو گی اللہ تعالیٰ میرا پڑوس اس پر حرام کر دے گا کیونکہ مجھے دنیا کی خرابی کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے مجھے اس کی تعمیر کے ہمراہ مبعوث نہیں کیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جبرون بن عیسیٰ کے حوالے سے یحیی بن سلمان جفری سے نقل کی ہے ۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9067
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (301/22)»